سلام
کوئی چراغ جب انکارِ شام بھی نہ کرے
کرے گا کون اگر یہ امام بھی نہ کرے
مری کسی سے نہیں دشمنی مگر جو شخص
نہیں حسین کا مجھ سے کلام بھی نہ کرے
گراں گزرتی ہے جس دل پہ یادگارِ حسین
حضورِحق میں سجود و قیام بھی نہ کرے
ہو بادشاہ جو دنیا کے در کا سگ ، اس کو
علی کا چاہنے والا سلام بھی نہ کرے
جو آنکھ بخشی ہے مولا تو التفات مزید
بجز عزائے حسین اور کام بھی نہ کرے
وہی تو کوفی ہے تیغ و قلم رکھے لیکن
وفا کے معرکے میں بے نیام بھی نہ کرے
صغیر سن سہی وہ ہاشمی لہو ہی کیا
جو لوحِ دہر پہ ثبت اپنا نام بھی نہ کرے
مرے خدا نھیں انجام کربلا تو پھر
سفر خیال مرا چند گام بھی نہ کرے
بجا کہ غالی موالی ہے پر نہیں ایسا
صحابیت کا شہاب احترام بھی نہ کرے
